خواجہ اقبال حسن کو 20 اکتوبر 2021 کو لکی سیمنٹ لمیٹڈ کے بورڈ میں بطور آزاد ڈائریکٹر مقرر کیا گیا۔
مسٹر حسن نے برطانیہ سے اکاؤنٹنسی میں ڈپلومہ حاصل کیا اور یونیورسٹی آف سان فرانسسکو سے فنانس اور مارکیٹنگ میں بی ایس سی کی ڈگری 1980 میں امتیازی اعزاز کے ساتھ مکمل کی۔ انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز سٹی بینک این اے سے کیا اور 1994 میں گلوبل سیکیورٹیز پاکستان لمیٹڈ کے شریک بانی بنے، جو یو بی ایس اے جی کا سابق جوائنٹ وینچر پارٹنر اور ایک معروف اسٹاک بروکنگ و انویسٹمنٹ بینکنگ فرم تھی۔ 2003 میں انہوں نے سنگاپور کی تیماسیک ہولڈنگز کے اشتراک سے این آئی بی بینک لمیٹڈ قائم کیا، جو چار سال کے اندر پاکستان کے اعلیٰ درجہ بندی والے کمرشل بینکوں میں شامل ہوگیا۔ انہوں نے دونوں اداروں میں چیف ایگزیکٹو آفیسر کے طور پر خدمات انجام دیں۔
وہ اس وقت وائی بی ہولڈنگز کے بورڈ میں بطور ڈائریکٹر خدمات انجام دے رہے ہیں، جو یونس برادرز / لکی گروپ کی ایک ہولڈنگ کمپنی ہے۔ وہ کراچی گرامر اسکول، لیٹن رحمت اللہ بینیولنٹ ٹرسٹ، اور حسن فاؤنڈیشن کے بورڈز میں بطور ٹرسٹی بھی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ وہ ڈیولپمنٹ کارپوریشن ایڈوائزرز کی ایڈوائزری کمیٹی کے چیئرمین بھی ہیں، جو برٹش انٹرنیشنل انویسٹمنٹ (سابقہ سی ڈی سی گروپ پی ایل سی) کی مکمل ملکیتی ذیلی کمپنی ہے، جو برطانیہ کا ترقیاتی مالیاتی ادارہ ہے۔
مسٹر حسن کو حکومتِ پاکستان کی جانب سے پاکستان کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کے رکن اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے بورڈ ممبر کے طور پر نامزد کیا گیا۔ وہ لکی کور انڈسٹریز، اینگرو کارپوریشن لمیٹڈ، سول ایوی ایشن اتھارٹی آف پاکستان، پاکستان اسٹیل ملز لمیٹڈ، حبیب بینک لمیٹڈ، این آئی بی بینک لمیٹڈ، نیشنل فلرٹن ایسیٹ مینجمنٹ کمپنی لمیٹڈ، یو بی ایس / گلوبل سیکیورٹیز پاکستان لمیٹڈ، سٹی کارپ انویسٹمنٹ بینک پاکستان، دی پاکستان فنڈ، لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز، سینٹرل ڈیپازٹری کمپنی آف پاکستان لمیٹڈ، اور پاکستان سینٹر فار فلانتھراپی کے بورڈز میں بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔
مسٹر حسن پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کے سابق وائس چیئرمین رہ چکے ہیں اور پاکستان کے بینکنگ کمپنیز آرڈیننس میں اصلاحات سے متعلق بینکنگ سیکٹر کمیٹی کے چیئرپرسن کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ وہ وزیرِ اعظم کی فارن ایکسچینج ریزروز مینجمنٹ، کارپوریٹ ٹیکس اصلاحات، اور کیپیٹل مارکیٹس اصلاحات سے متعلق ٹاسک فورسز کے رکن بھی رہے ہیں۔
2007 میں انہیں قومی مفادات کے لیے نمایاں خدمات کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان کی جانب سے ستارۂ امتیاز سے نوازا گیا۔

کوئی سوال ہے یا مزید معلومات چاہیے؟ ہماری ٹیم سے رابطہ کریں۔